ابتدا و آغاز تحریك ہوم اكنامكس

اس تحریك كا بنیادی فلسفہ اگر انسانوں كو اس زمین پر اپنے عارضی قیام میں حقیقی خوشی صرف اس صورت میں حاصل ہو سكتی ہے كہ اگر اسے اپنے گھرانے میں ایك تسكین بخش اور بافراد زندگی میسر آ جائے اس تحریك كے رہنما اس نتیجے پر پہنچے كہ اگرچہ پھر انسان میں فطری طورپر یہ استعداد موجود ہے كہ وہ گھریلو زندگی كی بركتوں سے فائدہ حاصل كرے لیكن لا علمی اور جہالت كی وجہ سے وہ اپنی اس فطری استعداد سے كماحقہ فائدہ اٹھانے سے قاصر رہے۔ اس طرح وہ گھریلو زندگی كی خوشیوں سے محروم رہ جاتا ہے۔ اس لاعلمی اور جہالت كو دور كرنے كے لیے اس چیز كی ضرورت محسوس كی گئی ہے۔ كہ ان تمام معلومات كو یكجا كر كے ایك علم مرتب كیا جائے اور پھر اس كی تدریس كی جائے ۔ اورپھر اس سے فائدہ حاصل كیا جائے۔ چنانچہ فیصلہ یہ ہوا كہ پہلے تمام علوم سے وہ معلومات اخذ كر لی جائیں۔ جن كا كوئی تعلق خاندان كے رہن سہن اور زندگیوں سے ہے دوسرا مفید یہ كہ خوش گوار گھریلو زندگی گزارنے كی راہ میں جو ركاوٹیں ہیں انہیں خصوصی تحقیق كے ذریعہ سے دور كیا جائے۔ پھر اس دوہری كوشش سے جو معلومات حاصل ہوں انہیں موثر تدریس كے ذریعے عام كیا جائے اس خصوصی تحقیق سے حاصل كردہ ذخیرہ علم كو یكجا كر كے اسے ہوم اكنامكس كا نام دیا گیا۔ اور اس طرح ہوم اكنامكس كو بطور تدریس مضمون عالم وجود میں لایا گیا۔